اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ ٹرمپ کے سابقہ دعووں کے برعکس طویل ہوگئی ہے اور اب چھٹے ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔ اس صورتحال نے امریکی صدر کو جنگ کے اعلان کردہ اہداف اور اس کے مستقبل سے متعلق سوالات کا سامنا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
ٹرمپ ماضی میں جنگ کے جلد خاتمے کی بات کرتے رہے ہیں، تاہم اب ان کا مؤقف تبدیل ہوگیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انہیں جنگ ختم کرنے میں کوئی جلدی نہیں۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور اس کی صلاحیتیں محدود ہوگئی ہیں، تاہم تہران بدستور امریکی دباؤ کے مقابلے میں مزاحمت اور مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت نے فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت واشنگٹن مزید پابندیاں عائد کرنے اور ایران کے ساتھ اقتصادی لین دین کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی کارروائی کی دھمکی دے کر ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جنگ کے طول پکڑنے سے امریکا کے اہم فوجی سازوسامان اور گولہ بارود کے ذخائر کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ بعض رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ طویل جنگ دنیا کے دیگر خطوں میں امریکی فوج کی تیاری اور دفاعی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔
دوسری جانب جنگ پر امریکا کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ کا جاری رہنا ریپبلکن جماعت کی سیاسی پوزیشن پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز بھی اس بحران کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ اہم بحری گزرگاہ کھلی ہے، تاہم جنگ سے قبل کے مقابلے میں اس سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈی اور خطے سے تیل و گیس برآمد کرنے والے ممالک کی معیشتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹرمپ بارہا دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرتا آیا ہے اور اس دوران اس نے معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے ہیں، جن میں تیل کی برآمد اور مالی لین دین کے متبادل ذرائع شامل ہیں۔
بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن ممکنہ طور پر ایران کی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت اور سیاسی عزم کو کم سمجھ رہا ہے، جس سے معاشی دباؤ بڑھا کر سیاسی نتائج حاصل کرنے سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے اندازوں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ